Saturday, 15 December 2012

غزل : دائرہ در دائرہ آبِ رواں تحریر ہے

دائرہ در دائرہ آبِ رواں تحریر ہے
نفسِ مضموں آج سارا حلقہء زنجیر ہے

کس قدر بگڑی ہوئی صورت میں پوشیدہ ہے وہ
آئینہ در آئینہ اب سوچ میں تصویر ہے

وحشت بھری اُس شکل پر نقشِ قیامت درج ہے
روشنی کی اِک کرن پھر بھی وہاں تحریر ہے

سب دباتے ہیں مگر آواز کچھ دبتی نہیں
پھر کسی گُنبد کی دنیا میں نئی تعمیر ہے

ہے بنائے آرزو تو زخم کی اینٹیں رکھو
زندگی میں اس سے بڑھ کر کیا بڑی توقیر ہے

وہ بشر تھا جس نے ہم کو کرکے یہ دکھلا دیا
یہ جہاں کیا وہ جہاں بھی قابل تسخیر ہے

پچھلے موسم میں جو بچھڑی اُس ہوا کو دیکھنا
تیری چاہت میں ابھی تک کس قدر دلگیر ہے

جیسا سوچوگے وہی آئیگا تم کو بس نظر
سارے خوابوں کی سمجھ لو ایک ہی تعبیر ہے

عہد حاضر کا بھی شاعر درد سے معمور ہے
لوگ کہتے ہیں غزل میں میر ہے بس میر ہے
_________________

Khaab Kinare : Rashid Fazli Poetry
Ghazal by Rashid Fazli

No comments:

Post a Comment